منہاج سپین
تحریک منہاج القرآن
- Details
- Created on Saturday, 09 August 2008 07:49
- Published on Saturday, 07 October 2006 10:00
- Hits: 2186
| احیائے دین کی عالمگیر جدوجہد : تحریک منہاج القرآن |
|
موجودہ دور میں کوئی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے۔ یہاں ہر انفرادی جدوجہد بھی کسی نظام کے تحت اجتماعی جدوجہد کا حصہ ہوتی ہے۔ اس دورِ فتن میں زندگی کے ہر شعبے کی طرح شیطان اور شیطانی قوتیں حق کے خلاف اجتماعی اور منظم انداز میں برسر پیکار ہیں۔ باطل کبھی کلچر کے نام پر، کبھی جدت اور روشن خیالی کے عنوان سے، کبھی جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے موضوع سے، کبھی حقوقِ نسواں کا جھنڈا بلند کر کے اور کبھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا لیبل لگا کر سینکڑوں اِجتماعی کوششوں کے ذریعے حق اور اہل حق کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ آج اہلِ حق علمی، فکری، نظریاتی اور اعتقادی ہر سطح پر بے شمار حملوں کی زد میں ہیں۔
’’اور نیکی اور پرہیز گاری (کے کاموں ) پر ایک دُوسرے کی مدد کیا کرو۔‘‘ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حکم دیا ہے کہ : ’’اللہ تعالیٰ اِس اُمت کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ پس سب سے بڑی جماعت کی اِتباع کرو اور جو اُس جماعت سے الگ ہوتا ہے وہ آگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘ گویا دور فتن میں راہ نجات کے حصول کے لئے کسی جماعت میں شمولیت ضروری ہے۔ ہم کون سی جماعت میں شامل ہوں؟اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ دور فتن میں وہ کون سی جماعت ہے جو ہمیں منزل تک پہنچا سکے گی۔ جماعت کے انتخاب کے سلسلہ میں قرآن و حدیث نے ہمیں شرائط اور معیار عطا فرمائے ہیں۔ وہی جماعت، تحریک یا تنظیم منزل تک پہنچا سکتی ہے جو امر بالمعروف (نیکی کا حکم دے) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکے)، جو جماعت تجدید و احیاء دین کا فریضہ سر انجام دے رہی ہو وہی قوم کو زوال کی گہرائیوں سے نکال سکتی ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالی اِس اُمت کے لیے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اَشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (اُمت) کے لیے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘ جو تحریک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے عشق و محبت اور ادب اطاعت کا تعلق قائم رکھے اور حضور کی امت کو بھی سوئے حرم لے جانے کا راستہ جانتی ہو۔ یقینًا ایسی تحریک اور جماعت ہی اس دورِ فتن میں راہِ نجات ہے۔ اِلٰہی تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں؟جب ہم دور حاضر میں موجود جماعتوں اور تحریکوں کا جائزہ لیتے ہیں اور کسی ایک جماعت میں شمولیت کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں لاتعداد تنظیمیں، جماعتیں اور تحریکیں موجود نظر آتی ہیں مگر اکثر تحریکوں اور جماعتوں میں مقصدیت کا فقدان ہے ان کی منزل واضح نہیں ہے۔ وہ کبھی ہتھیار اٹھا کر دہشت گردی پر اتر آتے ہیں تو کبھی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر و مشرک قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ کئی تحریکیں ایسی ہیں جن کی بنیاد اور اصل ہی فرقہ پرستی ہے، ایک محدود دائرے کے اندر چند مسلکی مقاصد کو پورا کرنے یا دوسرے مسلک کو ختم کرنے کے لئے قائم کی گئی ہیں۔ ایک اور واضح نقص جو موجود تحریکوں اور جماعتوں میں دکھائی دیتا ہے وہ دینی تعلیم کا محدود تصور ہے۔ قرآن و حدیث کی خدمت کے نام پر قائم بہت سی تحریکیں اور جماعتیں ایسی ہیں جو بات تو قرآن و حدیث کرتی ہیں مگر معاشرے میں رائج دیگر تمام علوم کی نفی کرتی ہیں اور عملاً اس نصاب کو اپنے مدارس میں رائج نہیں ہونے دیتیں، لہٰذا دینی تحریکوں کے کارکن اور ان کے مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء معاشرے سے الگ اور جدا نظر آتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کریں کہ رَبّ زِدْنِی عِلْمًا (اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما) اور ہم اپنے آپ کو علم کی دنیا سے دور رکھیں۔ الغرض بعضوں کی سوچ محدود ہے تو بعضوں کا دائرہ کار، بعض اتحاد امت کے نام پر امت کو فرقوں میں تقسیم کر رہے ہیں تو بعض اپنے ہی مسلمانوں کا گلا کاٹنے کو عبادت و بندگی اور افضل جہاد سمجھ رہے ہیں۔ امید صبح نوان حالات میں جب ہم اﷲ کے حضور راہ نجات طلب کرتے ہیں تو ہمیں امید کی آخری کرن تحریک منہاج القرآن ہی دیکھائی دیتی ہے جب ہم اس کی ربع صدی سے زائد تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس نے آج تک کسی کو کافر و مشرک نہیں کہا، دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو پہنچا دیا ہے مگر آج تک اس کا کوئی کارکن کسی دہشت گردی کے عمل میں ملوث نہیں پایا گیا، اس نے مسلمانوں کو مسلک کے دائرے سے نکال کر امت کی لڑی میں پرویا ہے، اس نے جہاں قرآن و حدیث کے نور کو عام کیا ہے وہاں دنیا بھر میں جدید یونیورسٹیز، کالجز، سکولوں اور اسلامک سنٹروں کی شکل میں قوم کو علم و شعور کے نور سے نئی سوچ عطا کی ہے۔ اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی سر انجام دیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا حضور سے ٹوٹا ہوا تعلق پھر سے جوڑ دیا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کیا ہے؟اکتوبر 1980ء میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی ادارہ منہاج القرآن کے نام سے تحریک منہاج القرآن کا قیام عمل میں لائے۔ تحریک منہاج القرآن وہ واحد تحریک ہے جس نے امت مسلمہ کے ہر ہر طبقے اور ہر ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کا شعور عطا کیا ہے۔ دور حاضر میں تحریکِ منہاج القرآن نیکی اور خیر کے فروغ کے لیے منظم انداز میں ملک اور بیرون ملک بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ فورمزتحریک نے ہر طبقے کے لیے الگ الگ فورم قائم کیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے مزاج اور صلاحیت کے مطابق اپنی کوشش کو اجتماعی عمل کا حصہ بنا سکے۔ تحریک منہاج القرآن نے دین سے لگاؤ اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کے لئے تحریک کا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ ملک بھر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دکھانے اور ان میں قومی اور ملی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے منہاج القرآن یوتھ لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ معاشرے کے موثر اور باعزت طبقے علماء کرام، جو تبلیغ دین کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، ان علماء کی انفرادی جدوجہد کو عالمی سطح پر غلبہ دین حق کی بحالی کی جدوجہد کا حصہ بنانے کے لئے منہاج القرآن علماء کونسل قائم کی گئی ہے۔ نوجوان اور خصوصًا طلباء کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ان کی اصلاح کے لئے مصطفوی سٹوڈنٹ موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ موجودہ دور زوال میں خواتین میں خدمت دین کا جذبہ ابھارنے اور انہیں بھی قومی و ملی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کے لئے منہاج القرآن ویمن لیگ جنوری 1988ء سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی طرح دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ظلم میں پسے ہوئے عوام کی مدد کے لئے عوامی لایرز موومنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ تحریک کے فورمز کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے :
عالم گیر سطح پر قرآن و سنت کی دعوتتحریک منہاج القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا کے جدید ذرائع علم سے استفادہ کرتی ہے مگر اس کی اصل بنیاد قرآن و سنت ہے۔ ملک بھر میں ربع صدی سے زائد دور میں پہلے خود حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ہر ہر شہر میں دروس قرآن دیئے اور اب ان کے تربیت یافتہ شاگرد ملک کے کونے کونے میں دروس عرفان القرآن کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا قرآن سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں 250 سے زائد مقامات پر ماہانہ دروس عرفان القرآن جاری ہیں یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کرم ہے کہ آج دنیا بھر کے کسی ملک میں اگر نوجوان نسلوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے کوئی تحریک جہاد کر رہی ہے تو وہ تحریک منہاج القرآن ہے۔ 80 سے زائد ممالک میں باقاعدہ تنظیمی نیٹ ورک جبکہ 100 سے زائد ممالک میں دعوتی کام زور و شور سے جاری ہے۔ اخلاقی و روحانی اقدار کا احیاءجس دور میں تصوف کاروبار بن چکا تھا اس دور میں تحریک منہاج القرآن کے بانی حضرت شیخ الاسلام نے تصوف پر 30 سے زائد کتب لکھ کر جہاں اس کا علمی و فکری دفاع کیا وہاں مسنون اعتکاف، شب بیداریوں اور روحانی اجتماعات کے ذریعے اس کو عملاً زندہ بھی کیا ہے۔ تعلیمی خدماتتحریک منہاج القرآن نے قرآن و حدیث اور جدید عصری علوم کو یکجا کرنے کے لئے دنیا بھر میں تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی ملک کی وہ واحد یونیورسٹی ہے جو کسی مذہبی تحریک نے قائم کی اور حکومت نے اسے چارٹر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے ہر ضلع اور تحصیل میں 572 سے زائد سکول اور دیگر تعلیمی ادارے فروغ علم میں مصروف عمل ہیں اس کے علاوہ دنیا بھر میں 40 سے زائد اسلامک سنٹر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں دینی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سفیر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمتحریک منہاج القرآن کا اصل امتیاز یہ ہے کہ اس نے عقیدہ رسالت پر ہونے والے ہر حملے کا نہ صرف دفاع کیا ہے بلکہ حقیقی معنوں میں حضور کی امت کا حضور سے ٹوٹا ہوا تعلق جوڑ دیا ہے۔ تحریک نے مناظرے کرنے کی بجائے دلائل کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو یوں اجاگر کیا کہ کل جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی توفیق نہ تھی آج ہر کوئی محفل حمد و نعت سجا رہا ہے۔ تحریک نے نہ صرف لوگوں میں عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروغ دیا ہے بلکہ نوجوانوں کے کردار کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کے نور سے منور کیا ہے۔ گزشتہ ربع صدی سے دنیا کی سب سے بڑی محفل میلاد کے انعقاد کی سعادت بھی تحریک کو حاصل ہے۔ روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد تحریک منہاج القرآن کا گوشہ درود وہ منفرد مقام ہے جہاں دسمبر 2005ء سے ہر لمحہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر درود شریف پڑھا جا رہا ہے۔ چوبیس گھنٹے سیکڑوں لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے میں مصروف ہیں۔ سفیر امنتحریک منہاج القرآن ہمیشہ امن عالم اور اخوت و مودت کی داعی رہی ہے۔ یہ ہر سطح پر تشدد، فرقہ واریت، تنگ نظری، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی مذمت اور نفی کرتی ہے۔ یہ تصوف اور امن کی پیکر ہے، اس کا ذوق صوفیانہ ہے۔ صوفیاء امن و سلامتی کے پیکر تھے، ان کے خزانے میں سب کچھ تھا مگر انسانیت سے نفرت نہ تھی، جبر و تشدد اور بندوق نہ تھی۔ ان کے پاس نگاہ کی تلوار تھی جس سے وہ انتہاء پسندی، دہشت گردی اور نفرت کا گلا کاٹتے رہے۔ ان کے پاس محبت، پیار، الفت، تقویٰ و کردار تھا جس سے وہ لاکھوں دلوں کو فتح کرتے رہے۔ تحریک منہاج القرآن اسلام کی انہی حقیقی تعلیمات کا پرچار کرتی ہے۔ یہ دنیا کی واحد تحریک ہے جو اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھانے پر محنت کر رہی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے، سو یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجی جانی والی ہستی کو ماننے والے دہشت گرد ہوں۔ مجدد رواں صدیحضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کا وجود اﷲ جل مجدہ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے۔ تحریکِ منہاجُ القرآن کی تجدیدی خدمات کا ہر تعارف حقیقت میں انہی کا تعارف ہے۔ اِسلام کی علمی، فکری، اَخلاقی، روحانی اور ایمانی اَقدار کے فروغ کے سلسلہ میں آپ نے مختصر عرصے میں جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں اس کی مثال ہماری تاریخ میں کم ملتی ہے۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، سیاسیات، اقتصادیات اور اخلاقیات پر اب تک تقریباً 350 کتب کا ایسا گراں مایہ ذخیرہ امت کو دیا ہے جو صدیوں تک اس کا اثاثہ ہوگا۔ آپ نے عقائد، سیرت اور اصول احکام میں مجتہدانہ شان سے زبان و قلم کو برتا آپ کے سمعی، بصری اور طباعتی مواد کو پڑھنے اور سننے کے لئے ایک عمر درکار ہے۔ مقاصد و اہدافتحریک منہاج القرآن کے مقاصد و اَہداف کو ایک نظر دیکھنا ہو تو وہ درج ذیل ہیں :
دعوت فکر و عملمعزز قارئین! ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ موجودہ دور دور فتن ہے، نئی نسلوں سے ایمان کا نور چھن رہا ہے، کفر، لادینیت غلبہ پا رہی ہے۔ ایسے میں جو دردِ دل رکھتے ہیں اور حضور کی امت کی زبوں حالی پر کرب میں مبتلا ہیں جنہیں منزل تک پہنچنے کے لئے صراط مستقیم کی تلاش ہے اور جو اس امر پر متفق ہیں کہ اس دور میں کسی تحریک میں شامل ہوئے بغیر تنہا نصرتِ دین کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ آئیں! تحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت اختیار کریں۔ اس تحریک کے ذریعے اِن شاء اللہ آپ کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیمات کا فیض میسر آئے گا بلکہ فتنہ و شر کے خلاف اِجتماعی جدوجہد کا حصہ بن کر ہمیں ایمان کے تحفظ کی ضمانت بھی میسر آئے گی۔ اگر آپ تحریکِ منہاجُ القرآن کی فکر کو درست اس کے پروگرام کو مثبت اور اس کے کارکنوں کو حق سمجھتے ہیں تو آئیں! اللہ تعالیٰ کے حکم ۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی (نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو) ۔ کے مطابق معاشرے میں خیر اور بہتری کے اس کام میں اپنی جدوجہد کو بھی شامل کریں۔ تحریک میں شمولیتتحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت نہایت آسان اور سادہ ہے۔ آپ مرد ہیں یا عورت، عمر کے جس حصہ میں بھی ہیں، زندگی کے جس شعبہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں، آپ اپنے منصب اور مزاج کے لحاظ سے اس دینی جدوجہد کا حصہ بن سکتے ہیں۔ مَردوں کے لیے ’’تحریکِ منہاجُ القرآن‘‘، خواتین کے لیے ’’منہاجُ القرآن ویمن لیگ‘‘، علماء کرام کے لیے ’’منہاجُ القرآن علماء کونسل‘‘، سیاسی مزاج رکھنے والوں کے لیے ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘، نوجوانوں کے لیے ’’منہاجُ القرآن یوتھ لیگ‘‘، فلاحِ انسانیت کا درد رکھنے والوں کے لیے ’’منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن‘‘، وکلاء کے لیے ’’منہاج لایرز فورم‘‘ اور طلباء کے لیے ’’مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ‘‘ کے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کی رفاقت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ مرکزی سیکرٹریٹ، تحریکِ منہاج القرآن |
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
- Details
- Created on Wednesday, 20 August 2008 10:11
- Last Updated on Saturday, 24 March 2012 01:53
- Published on Thursday, 19 August 2004 06:00
- Written by Naveed Asghar
- Hits: 2497
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری |
||
|
آپ شیخ سید طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی کے مرید ہیں، جو سلسلہ نسب میں شیخ سید عبدالقادر جیلانی کی 17 ویں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 28 ویں پشت سے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو 1994ء میں 130 سال عمر پانے والے چکوال کے معروف بزرگ سید رسول شاہ خاکی (رح) نے پہلی بار اور بعد ازاں 2004ء میں عرب علماء کی طرف سے شیخ الاسلام کا خطاب دیا گیا۔ [1] شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے والد گرامی فرید ملت حضرت ڈاکٹر فریدالدین قادری رحمۃ اللہ علیہ 1918ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے عربی و فارسی ادب، فقہ اسلامی اور تصوف و روحانیت کے حصول کے لئے دنیا بھر کا سفر کیا۔ وہ دینی، علمی اور روحانی طور پر نہایت بلند مقام کے حامل تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت محترم اور معتبر مقام عطا کیا تھا۔ وہ علم و ادب، تحقیق، خطاب اور روحانیت میں یکتائے روزگار تھے۔ وہ اپنے وقت کے بڑے جید عالم، محقق اور فاضل تھے اور صالح سیرت و کردار، تقویٰ، شب بیداری اور روحانی خصائل اور فضائل کے اعتبار سے بلاشبہ ولی اﷲ تھے۔
1974ء میں جب ان کا وصال ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 56سال تھی۔ انہیں روحانی فیض حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے دربار عالیہ کے نقیب الاشراف حضرت سیدنا ابراہیم سیف الدین الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملا تھا۔ پیشہ کے اعتبار سے وہ ڈاکٹر تھے۔ ان کی ساری دینی تعلیم فرنگی محل لکھنو میں ہوئی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے طب کی تعلیم طبیہ کالج لکھنو اور ایلوپیتھک کی تعلیم و تربیت کنگ جارج میڈیکل کالج لکھنو سے حاصل کی۔ وہ ڈسٹرکٹ جھنگ کے رورل ہیلتھ سینٹرز میں سرکاری ملازمت میں رہے۔ ان کی اصل مہارت طب یونانی میں تھی۔ وہ شفاء الملک حکیم عبدالحلیم لکھنوی کے تلمیذ خاص تھے اور انہوں نے حکیم عبدالوہاب نابینا انصاری سے فن نبض شناسی میں تخصص کیا تھا اور ان کے ساتھ مسند پر حیدر آباد دکن میں 2سال تک معاون رہے اور 1940ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ انہیں علامہ محمد اقبال کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور وہ قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھی شریک سفر رہے۔ وہ سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے طبی مشیر بھی رہے۔ انہی سے مروی ہے کہ وہ 1948ء میں سعودی عرب گئے تو بیت اللہ کے پہلو میں آخر شب اللہ تعالی سے دعا کی کہ انہیں ایسا بیٹا عطا فرما جو اسلام کی خدمت کرے، اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خواب میں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دی تھی۔ اساتذہ
تعلیم
انتظامی کیریئر
تعلیمی خدمات
سیاسی کیریئر
دینی خدمات
علمی و ادبی خدمات
اجازت روایت حدیث لینے والے علماءعرب و عجم کے بعض نامور علماء کرام نے ان سے اجازت روایت حدیث لی، جس کے ذریعے ان کا سلسلہ روایت نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے آپ کو دوسرے روایتی مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی طرح نہیں ڈھالا بلکہ آپ نے حقیقتاً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کی خدمت کی ہے۔ آپ کے اسی خلوص کی بہ دولت آج تحریک منہاج القرآن کی شاخیں، مراکز اور رفقاء و وابستگان دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں ہیں، آپ کی 360 سے زائد تصانیف مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں مزید 700 کے قریب مسودات برائے طباعت پڑے ہیں۔ سینکڑوں موضوعات پر 5000 سے زائد آڈیو، ویڈیو خطابات اور CDs موجود ہیں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہی ہے کہ آپ کی تحریک منہاج القرآن امت مسلمہ کے لئے صدیوں تک مینارہ نور رہنے والی فکری، اصلاحی، تجدیدی اور احیائی تحریک بن چکی ہے۔ آپ پچھلی ایک صدی کے اندر عرب و عجم اور امت مسلمہ کے کسی بھی ملک سے اٹھنے والی کسی اسلامی تحریک سے اسکا تاریخی و تنقیدی موازنہ کریں اور اس کے ابتدائی 23 سالوں کی تاریخ، اس کا فروغ و ترقی، اس کی خدمات، نتائج اور کامیابیاں سامنے رکھیں اس طرح تحریک منہاج القرآن کے بھی اب تک کے عرصہ (23 سال) کی Achievements کا مطالعہ کریں تو آپ بفضلہ تعالیٰ ہر لحاظ سے یکتا و منفرد اور حیرت انگیز پائیں گے۔ لوگ دوسری تحریکوں کے 70 سال یا ایک صدی کے کام کا موازنہ تحریک منہاج القرآن کے دو عشروں کے کام کے ساتھ کرتے ہیں تو تب بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور اسے کئی اعتبارات سے آگے پاتے ہیں مگر ہر ایک تحریک کا اس کے ساتھ پہلے 23، 23 برس کا موازنہ کرنے سے صحیح تاریخی محاکمہ سامنے آئے گا۔ دیگر تحریکوں کو تو پہلے 23 سالوں میں پورے ملک میں Recognition ہی نہیں ملتا اگر کسی کو ملا ہے تو دنیا میں متعارف بھی نہیں ہو سکی مگر تحریک منہاج القرآن اپنے ہزارہا رفقاء لاکھوں وابستگان کے علاوہ لاتعداد قائم کردہ ادارے، مراکز، لائبریریاں اور سنٹرز بنا چکی ہے۔ ایک ’’فکری منہاج‘‘ کی بانی ہے امت کے ایک معتدبہ حصہ کی رہنما ہے۔ پھر دوسری تحریکوں کی طرح اس کا کام صرف ایک یا دو ہی سمتوں میں نہیں بلکہ اس کی جدوجہد میں دعوت و تبلیغ کا کام، اصلاح احوال کا کام، روحانیت و سلوک کی اصل حقیقی قدروں کے احیاء کا کام، عقائد میں اعتدال کا کام، ہیومن ویلفیئر کا کام، ہزارہا تعلیمی اداروں کا قیام، بین الاقوامی سطح کی اہمیت رکھنے والی ایک یونیورسٹی کا قیام، تحقیق اور تصنیف و تالیف کا کام، انتظامی و تنظیمی امور، ہزارہا تنظیمی سٹرکچر، سیکرٹریٹ اور دفاتر کا منظم نظام، جدید و قدیم کا امتزاج، جس میں الازہر، علی گڑھ، بریلی و دیوبند اور ندوہ کے مذہبی Characters بھی جمع ہیں اور مغربی دنیا اور یورپ کی جدید تعلیمی و سائنسی ٹیکنالوجی پر مشتمل شعبہ جات بھی شامل ہیں جن سے مرد، عورتیں، جوان، بچے سبھی مستفید ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ نارتھ امریکہ، یورپ، سیکنڈے نیویا، ایشیاء، فار ایسٹ، مڈل ایسٹ سمیت افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ تک لاکھوں کروڑوں مسلمان اس تحریک کے کثیر الجہات فیض سے روشنی اور رہنمائی پا رہے ہیں۔ 1۔ ڈاکٹر طاہرالقادری بارے اہم شخصیات کے تاثرات 2۔ تحریک منہاج القرآن کا ایجوکیشن پراجیکٹ 3۔ Upgradation of the Minhaj University, Lahore from X to W category 5۔ بے نظیر نے تحریک منہاج القرآن کی تاحیات رفاقت اختیار کی۔ 6۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے قومی اسمبلی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ 7۔ عوامی دستخط مہم، 15 کلومیٹر طویل بینر 8۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف تیار کیا گیا دنیا کا طویل ترین احتجاجی بینر اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا گیا۔ 9۔ دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے۔ (مراسلہ) 10۔ تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام غزہ کانفرنس 11۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام غزہ کیلئے امدادی سامان کی روانگی 12۔ تحریک منہاج القرآن کا شہر اعتکاف 13۔ تحریک منہاج القرآن کی سالانہ عالمی میلاد کانفرنس 14۔ تحریک منہاج القرآن کا گوشہ درود 15۔ بیرون ملک منہاج القرآن اسلامک سنٹرز کا مختصر تعارف 16۔ فہرست خطابات ڈاکٹر طاہرالقادری 17۔ فہرست کتب ڈاکٹر طاہرالقادری 18۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتب برائے آن لائن مطالعہ 21۔ المنہاج السوی من الحدیث النبوی 25۔ اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول 29۔ اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق 30۔ القول المعتبر فی الامام المنتظر 31۔ فرقہ پرستی کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے 32۔ آل پاکستان مشائخ کانفرنس 2009ء 33۔ اسلام....قیام امن کا سب سے بڑا داعی 34۔ دہشت گردی کا اسلام اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں 35۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، (استنبول کانفرنس) 36۔ Prominent Muslim Cleric Denounces bin Laden 38۔ ریاست مدینہ میں حق رائے دہی 39۔ تحفظ نسواں ایکٹ 2006ء اور قائد اعظم کا پاکستان 40۔ خطاب ڈاکٹر طاہرالقادری: اسلام کا شورائی نظام، شام ہمدرد 2 اپریل 1987ء 41۔ منہاج القرآن لندن کے زیراہتمام بین المذاہب سیمنار 42۔ Establishment of Muslim Christian Dialogue Forum - MCDF 43۔ Christians Worshiping in the Mosque in Lahore, PK 44۔ Mosque Open Day for non-Muslims held at Nelson, UK 45۔ طبقات ابن سعد، جلد اول صفحہ 375 46۔ اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول 47۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی خدمات 48۔ اسلام اور سائنس میں عدم مغایرت 49۔ 50۔ ۔ 51۔ ۔ |






