نظریات
- شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک مسلمان سنی سکالر ہیں، مگر وہ خود کو بریلوی اور دیوبندی فرقوں کی بندشوں سے آزاد ایک عام مسلمان قرار دیتے ہیں۔
- ان کے مطابق اپنا عقیدہ چھوڑو مت اور دوسروں کا عقیدہ چھیڑو مت کی پالیسی اتحاد امت کے لئے ناگزیر ہے۔ [31]
- ان کے مطابق اسلامی تصوف کی روح نفس کی پاکیزگی سے عبارت ہے، جو شریعت کی پاسداری کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بناء پر وہ تصوف کو کاروبار بنانے والوں کو جاہل اور گمراہ قرار دیتے ہیں۔ [32]
- ان کے مطابق اسلام قیام امن کا سب سے بڑا داعی ہے [33] اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے گروہ مسلمان تو کجا انسان بھی کہلانے کے مستحق نہیں۔ [34] آپ کے مطابق دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ [35] آپ نے متعدد بار واضح طور پر اسامہ بن لادن کی کارروائیوں کی مذمت بھی کی۔ [36]
- ان کے مطابق اسلام حقوق نسواں کا واحد علمبردار مذہب ہے [37]، جو آزادی نسواں کے نام پر عورت کی تذلیل کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں اسے مرد کے برابر معاشرتی حقوق دیتا ہے[38] [39] [40]
- ان کے مطابق اسلام کا اصول مشاورت اسلامی نظام حیات کی روح ہے۔ اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے تمام فیصلوں میں اجتماعی مشاورت ناگزیر ہے۔ [41]
- ان کے مطابق انتہاء پسندی کے خاتمے کے لئے بین المذاہب رواداری نہایت ضروری ہے۔ [42] انہوں نے خود عملی طور پر مسلم کرسچئن ڈائیلاگ فورم[43] بنا رکھا ہے اور وہ عیسائیوں کے مسجدوں میں آ کر عبادت[44] کرنے کو حدیث نبوی [45] کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔
- ان کے مطابق اسلامی نظام معیشت آج کے دور میں بھی قابل عمل ہے۔ [46] اس سلسلے میں آپ نے بلاسود بینکاری نظام بھی پیش کیا۔ [47]
- ان کے مطابق اسلام کو آج کے دور میں قابل عمل دین ثابت کرنے کے لئے اسلام کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے فروغ کے ساتھ ساتھ سائنسی بنیادوں پر اسلام کی تعبیر کی ضرورت ہے۔ [48]
- ان کے مطابق سیاست اسلام کا حصہ ہے، جسے دین سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ [49]
تنقید
- ان کی طرف سے یزید اور اس کے حمایتیوں کو لعنتی قرار دیئے جانے پر ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے علماء کی دل آزاری ہوئی جو یزید کے لئے رضی اللہ عنہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ [50]
- اتحاد امت کی کوششوں اور شیعہ علماء سے اچھے تعلقات کی بناء پر شیعہ مخالف گروہوں نے ان پر تنقید کی۔ [51]
- گستاخی رسول کے مرتکب نہ ہونے والے عام دیوبندی علماء کو مسلمان سمجھنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دینے کی وجہ سے بریلوی مکتبہ فکر کے بعض علماء نے انہیں اہل سنت سے خارج قرار دیا۔
- بین المذاہب رواداری کے فروغ بارے کوششوں پر انتہاء پسند مذہبی فکر رکھنے والے طبقے کی طرف سے بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے۔ [52][53]
- علمی و فکری حوالوں سے ان کے معترف ہونے کے باوجود عوام کی زبان پر یہ جملہ رہا کہ ان جیسے شخص کو ملک کی گندی سیاست میں نہیں آنا چاہیئے تھا۔
- دوسری طرف پاکستان عوامی اتحاد کی سربراہی اور بعد ازاں قومی اسمبلی کی رکنیت تک پہنچنے کے بعد سیاست سے دستبردار ہونے کے اعلان پر ملکی سیاست میں تبدیلی کے خواہشمند طبقے کو بھی دھچکا لگا۔
حقیقت یہ ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے آپ کو دوسرے روایتی مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی طرح نہیں ڈھالا بلکہ آپ نے حقیقتاً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کی خدمت کی ہے۔ آپ کے اسی خلوص کی بہ دولت آج تحریک منہاج القرآن کی شاخیں، مراکز اور رفقاء و وابستگان دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں ہیں، آپ کی 360 سے زائد تصانیف مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں مزید 700 کے قریب مسودات برائے طباعت پڑے ہیں۔ سینکڑوں موضوعات پر 5000 سے زائد آڈیو، ویڈیو خطابات اور CDs موجود ہیں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہی ہے کہ آپ کی تحریک منہاج القرآن امت مسلمہ کے لئے صدیوں تک مینارہ نور رہنے والی فکری، اصلاحی، تجدیدی اور احیائی تحریک بن چکی ہے۔
آپ پچھلی ایک صدی کے اندر عرب و عجم اور امت مسلمہ کے کسی بھی ملک سے اٹھنے والی کسی اسلامی تحریک سے اسکا تاریخی و تنقیدی موازنہ کریں اور اس کے ابتدائی 23 سالوں کی تاریخ، اس کا فروغ و ترقی، اس کی خدمات، نتائج اور کامیابیاں سامنے رکھیں اس طرح تحریک منہاج القرآن کے بھی اب تک کے عرصہ (23 سال) کی Achievements کا مطالعہ کریں تو آپ بفضلہ تعالیٰ ہر لحاظ سے یکتا و منفرد اور حیرت انگیز پائیں گے۔ لوگ دوسری تحریکوں کے 70 سال یا ایک صدی کے کام کا موازنہ تحریک منہاج القرآن کے دو عشروں کے کام کے ساتھ کرتے ہیں تو تب بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور اسے کئی اعتبارات سے آگے پاتے ہیں مگر ہر ایک تحریک کا اس کے ساتھ پہلے 23، 23 برس کا موازنہ کرنے سے صحیح تاریخی محاکمہ سامنے آئے گا۔
دیگر تحریکوں کو تو پہلے 23 سالوں میں پورے ملک میں Recognition ہی نہیں ملتا اگر کسی کو ملا ہے تو دنیا میں متعارف بھی نہیں ہو سکی مگر تحریک منہاج القرآن اپنے ہزارہا رفقاء لاکھوں وابستگان کے علاوہ لاتعداد قائم کردہ ادارے، مراکز، لائبریریاں اور سنٹرز بنا چکی ہے۔ ایک ’’فکری منہاج‘‘ کی بانی ہے امت کے ایک معتدبہ حصہ کی رہنما ہے۔ پھر دوسری تحریکوں کی طرح اس کا کام صرف ایک یا دو ہی سمتوں میں نہیں بلکہ اس کی جدوجہد میں دعوت و تبلیغ کا کام، اصلاح احوال کا کام، روحانیت و سلوک کی اصل حقیقی قدروں کے احیاء کا کام، عقائد میں اعتدال کا کام، ہیومن ویلفیئر کا کام، ہزارہا تعلیمی اداروں کا قیام، بین الاقوامی سطح کی اہمیت رکھنے والی ایک یونیورسٹی کا قیام، تحقیق اور تصنیف و تالیف کا کام، انتظامی و تنظیمی امور، ہزارہا تنظیمی سٹرکچر، سیکرٹریٹ اور دفاتر کا منظم نظام، جدید و قدیم کا امتزاج، جس میں الازہر، علی گڑھ، بریلی و دیوبند اور ندوہ کے مذہبی Characters بھی جمع ہیں اور مغربی دنیا اور یورپ کی جدید تعلیمی و سائنسی ٹیکنالوجی پر مشتمل شعبہ جات بھی شامل ہیں جن سے مرد، عورتیں، جوان، بچے سبھی مستفید ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ نارتھ امریکہ، یورپ، سیکنڈے نیویا، ایشیاء، فار ایسٹ، مڈل ایسٹ سمیت افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ تک لاکھوں کروڑوں مسلمان اس تحریک کے کثیر الجہات فیض سے روشنی اور رہنمائی پا رہے ہیں۔
یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خاص فضل اور عطا ہے۔
حوالہ جات
1۔ ڈاکٹر طاہرالقادری بارے اہم شخصیات کے تاثرات
2۔ تحریک منہاج القرآن کا ایجوکیشن پراجیکٹ
3۔ Upgradation of the Minhaj University, Lahore from X to W category
4۔ منشور پاکستان عوامی تحریک
5۔ بے نظیر نے تحریک منہاج القرآن کی تاحیات رفاقت اختیار کی۔
6۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے قومی اسمبلی رکنیت سے استعفی دے دیا۔
7۔ عوامی دستخط مہم، 15 کلومیٹر طویل بینر
8۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف تیار کیا گیا دنیا کا طویل ترین احتجاجی بینر اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا گیا۔
9۔ دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے۔ (مراسلہ)
10۔ تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام غزہ کانفرنس
11۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام غزہ کیلئے امدادی سامان کی روانگی
12۔ تحریک منہاج القرآن کا شہر اعتکاف
13۔ تحریک منہاج القرآن کی سالانہ عالمی میلاد کانفرنس
14۔ تحریک منہاج القرآن کا گوشہ درود
15۔ بیرون ملک منہاج القرآن اسلامک سنٹرز کا مختصر تعارف
16۔ فہرست خطابات ڈاکٹر طاہرالقادری
17۔ فہرست کتب ڈاکٹر طاہرالقادری
18۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتب برائے آن لائن مطالعہ
19۔ عرفان القرآن کی ویب سائٹ
20۔ تفسیر منہاج القرآن
21۔ المنہاج السوی من الحدیث النبوی
22۔ سیرت الرسول
23۔ میلاد النبی
24۔ اسلام اور جدید سائنس
25۔ اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول
26۔ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق
27۔ اسلام میں خواتین کے حقوق
28۔ اسلام میں بچوں کے حقوق
29۔ اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق
30۔ القول المعتبر فی الامام المنتظر
31۔ فرقہ پرستی کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے
32۔ آل پاکستان مشائخ کانفرنس 2009ء
33۔ اسلام....قیام امن کا سب سے بڑا داعی
34۔ دہشت گردی کا اسلام اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں
35۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، (استنبول کانفرنس)
36۔ Prominent Muslim Cleric Denounces bin Laden
37۔ اسلام میں خواتین کے حقوق
38۔ ریاست مدینہ میں حق رائے دہی
39۔ تحفظ نسواں ایکٹ 2006ء اور قائد اعظم کا پاکستان
40۔ خطاب ڈاکٹر طاہرالقادری: اسلام کا شورائی نظام، شام ہمدرد 2 اپریل 1987ء
41۔ منہاج القرآن لندن کے زیراہتمام بین المذاہب سیمنار
42۔ Establishment of Muslim Christian Dialogue Forum - MCDF
43۔ Christians Worshiping in the Mosque in Lahore, PK
44۔ Mosque Open Day for non-Muslims held at Nelson, UK
45۔ طبقات ابن سعد، جلد اول صفحہ 375
46۔ اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول
47۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی خدمات
48۔ اسلام اور سائنس میں عدم مغایرت
49۔ خطاب ڈاکٹر طاہرالقادری: پیغمبرانہ جدوجہد اور طاغوتی قوتوں کے مزاحمتی حربے، 19 مارچ 1993ء
50۔ یزید اور اسے رضی اللہ عنہ کہنے والے لعنتی ہیں۔
51۔ شیعہ ہونے کا الزام خارجی فتنہ ہے۔
52۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
53۔ مسلم کرسچئن ڈائیلاگ فورم کا قیام